’’ پر امن معا شرہ ۔۔ پر امیدمستقبل جُرم انسانی معاشرے کاجزولاینفک ہے۔ ‘‘

19 Aug 2017

punjab-police-ic3

 حسان خالد ۔۔۔۔ ای سی سی

جرائم سے صد فیصد پاک معا شرہ ایک ایسا تصور ہے جسکی تجسیم نا ممکن ہے۔اچھائی اور برائی ازل سے فطرت انسانی کا خاصہ رہی ہیں۔یہی وجہ ہے جہاں بد ترین دور میں نیک طینت لوگ مل جاتے ہیں وہیں بہترین معاشروں میں برے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ انسانی معاشرہ نیکی اور بدی کی اسی آمیزش کا  نام ہے۔
آج دنیا عالمی سطح پر دہشتگردی،انتہاپسندی اور غربت جیسے مسائل کا شکار ہے تو دوسری طرف ملکی وقومی سطح پر بھی متفرق مسائل سے نبرد آزما ہے۔مو جودہ دور سائنس کا دور کہلاتا ہے۔ یہاں انسان اپنی دستیاب تاریخ کے انتہائی ترقی یافتہ مقام پر کھڑا ہے۔مختلف ایجادات نے جہاں اس کیلئے تعیثات میں اضافہ کیا ہے اور اسکی اچھائی کو ابھارنے اوراس اچھائی کا معاشرے کے پسماندہ اور کم ترقی یافتہ لوگوں تک پرچار کر نے کا سامان کیا ہے وہیں اسکی صفت معکوس میں بھی تنو ع پیدا ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج جرم پہلے سے زیادہ پیچیدہ او مجرم پہلے سے زیادہ ہوشیار ہے۔ یہاں یہ امر انتہائی ضروری تھا کہ نظام پولیس کوبھی جدیدخطوط پر استوار کیا جائے۔معاشر ے میں جرائم کی وجوہا ت تو ان گنت ہو سکتی ہیں لیکن ان کے تدارک کا طریقہ ایک ہی ہے۔قانون اور انصاف کی حکمرا نی ا ورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی بلاتفریق و غیرجانبدرانہ کاروائی۔
اس ضمن میں پاکستان میں پہلی دفعہ حکو مت پنجاب کے تعا ون سے ایک ایسے کثیرالجہتی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جوپولیس اور اس کے ذیلی اداروں کی ایک با مقصداور با رآور تنظیم نو کر تا ہے۔اس منصوبے کے تحت ریاست کے امن و امان قائم کر نے والے اداروں کا ایسامربوط ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے جو ایک جانب عوام
کی پولیس تک دسترس کو یقینی بناتا ہے تو دوسری جانب پولیس کو بذریعہ جدید کمپیوٹرائزڈ نظام اپنی ذمہ داریوں سے متعلق جوابدہ بھی بناتاہے۔
سیف سیٹیز کا منصوبہ عوام الناس میں کیمروں والا منصوبہ کے نام سے مشہور ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعلیٰ معیار کے کیمرہ جات کے ذریعے کل شہر کی نقل وحمل پر نظر رکھنا اس منصوبے کا صرف ایک جزو ہے۔جبکہ اصل منصوبہ اس تصور سے کہیں بڑھ کر ہے۔بنیادی طور پر یہ پولیس کے تمام اداروں کے باہمی تعاون کا نام ہے۔اس منصوبے کے تحت جہاں دہشتگردی کے واقعات اور سٹریٹ کرائم جیسی وارداتوں کی تدارک میں بذریعہ کیمر ہ سرویلنس مدد ملے گی وہی ٹریفک قوانین پر موثر عملدرآمدکیلئے ان کیمروں سے چالان بھی کیا جائے گا۔جبکہ قانون شکنی کے مرتکب شخص کو وہ تصاویر بھی بطورثبوت مہیا کی جائیں گی جن میں وہ سرخ بتی
یاٹریفک لین کی خلاف ورزی کر تا ہوا پایا جا ئے۔
سینٹر میں موجود ایمرجنسی کنٹرول سینٹر اور ڈسپیچ سینٹراس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ عوام کی پولیس کو کسی اہم واقعے کی اطلاع پرکم سے کم وقت میں متعلقہ جگہ پر پولیس کو روانہ کرکے بروقت کاروائی کی جا سکے۔
اس نظام کے مربوط ہونے کا ایک حاصل یہ بھی ہے کہ پولیس،ایمبولینس،فائر بریگیڈجیسے محکماجات کی ہنگامی مدد صرف ایمر جینسی نمبر 15ڈائل کر کے حاصل کی جا سکے گی جس پر یہ تمام محکمے کم سے کم وقت میں مطلوبہ خدمات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔

علاوہ ازیں میڈ یامانیٹرنگ کے شعبے میں تجزیہ کارمیڈ یا پر سنز کی مو جو د گی اس با ت کو یقینی بنا تی ہے کہ پر نٹ و الیکٹر انک میڈیا کے ذر یعے کسی بھی ایسے مواد کی تشہیرنہ کی جا سکے جو سا ئبر کرائم اور نیشنل ایکشن پلان کی روح کے خلاف ہو۔سوشل میڈیا پر موجود ایسا کو ئی بھی اکاؤنٹ جو فرقہ واریت اور مذہبی منا فر ت میں ملوث پایا جائے فوری طور پر رپورٹ کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کروائی عمل میں لائی جاتی ہے جو کہ اکاؤنٹ کے بلاک ہونے سے لے کر استعمال کنندہ کی گرفتا ری پر مُنتج ہو سکتی ہے۔
وڈیو کا نٹنٹ سینٹر کے تحت انتہائی مطلوب مجرموں اور دہشتگردوں کا ریکارڈمر تب کیا گیا ہے۔اَعلی معیار کے کیمر ہ جا ت اور ٹیکنا لو جی کے استعمال کی بدولت جہا ں کہیں بھی یہ لوگ کیمر ہ کے سامنے آ تے ہیں اُنکے چہرہ کی شناخت ہو جاتی ہے اور ایک الارم بجتا ہے جو کہ ان کی پوزیشن بتا دیتا ہے۔اس طرح مطلوب مجرموں تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔
پنجاب سیف سٹیز کا آئی سی تھری منصوبہ نظامِ پولیس کے پرا نے نظام کے متبا دل دیا گیا ایک جامع منصوبہ ہے۔بارہ ارب روپیہ کی لاگت سے تعمیر کردہ سٹیٹ آف دی آرٹ بلڈنگ میں قائم اس منصوبے کے بہت سے ثمرات آنا ابھی باقی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ اسکی افادیت اُجاگر کریں گے۔فی زمانہ ضررت اِس اَمر کی ہے کہ جرم کے تدارک کے ساتھ ساتھ غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل جو کہ جرم کی وجہ بنتے ہیں کے حل کیلئے بھی اقدامات کیے جائیں۔قومیں فکر سے بنتی ہیں
لہٰذاآج ایک ایسا بیانیہ ناگزیر ہے جو جرم سے نفرت اور صحت مند وپرامن معاشرے کے بقا کو فروغ دے۔۔۔۔۔

بزبان اقبال
؁ جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ وَخِشت سے ہو تے نہیں جہاں پید ا

 

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *