ریاست اور فراہمئی امن

28 Sep 2017

psca

محمد اسامہ طا ھر میڈیا مونیٹرنگ سنٹر

ریاست اور فراہمئی امن
پا کستا ن کے وجود میں آنے کے فوراََ بعد اور پھر ایک لمبے عرصے تک انگریزوں کے اختراع شُدہ نظام سے مدد لی گئی ۔انگریزوں نے اپنا نظامِ حکومت انگلشیہ کا تسلط قا ئم رکھنے کیلیے تشکیل دیا تھا۔چو ں کہ اُن کی حیثیت فاتح کی تھی لھٰذااُ ن کے کل اداروں میں حاکمیت کا رنگ واضح تھا ۔ایک آزاد فلاحی ریاست کی ان گنت ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہداری عوام کے جان و ما ل اور عزت وآبرو کا تحفظ بھی ہے۔ ریاست یہ ذمہ داری مختلف امن قائم کرنے والے اداروں اور پولیس کے ذریعے سر انجام دیتی ہے۔
انگریزوں کا نظامِ پولیس گو کہ مسائل کے حل اور قیامِ امن کیلئے اکسیر تھا لیکنِ 1947ء ؁ اور آج کے دور میں بہت فرق آچکا ہے۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ دنیا ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔لہٰذا عصرِحاضر کے مسائل میں تنوع بھی ایک خطری عمل ہے۔اسی نسبت سے موجودہ دور میں فراہمئی تحفظ کے سلسلے میں ریاست کی ذمہ داریوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
آج کی دنیامجموعی طور پر دہشتگردی کی جس عفریت کا شکار ہے،پاکستان اس سے مستثنٰی نہیں۔محل و وقوع کے لحاظ سے پاکستان اس خطہ میں واقع ہے کہ جہاں اسے اندرونی اور بیرونی دہشتگردی کا سامنا ہے۔
ملکی معیشت کی ترقی کا امن و امان سے گہرا تعلق ہے۔ ہم اس وقت تک دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں شامل نہیں ہو سکتے جب تک اندرونی طورپر محفوظ نہ ہوں۔دہشتگردی جیسے ناسور سے نبردآزما ہونے کیلئے ریاست کو ایک مستند اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نظامِ پولیس کی ضرورت تھی۔ یہاں اس کا ادراک سب سے پہلے خادمِ اعلیٰ پنجاب نے کیا۔

پولیس کلچر اور اس کے نظام میں اصلاحات کیلئے پنجاب سیف سیٹیزاتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔ جسے پنجاب اسمبلی سے بل کی صورت میں قانونی شکل دینے میں پنجاب حکومت نے بڑی محنت سے کام کیا۔اس اتھارٹی کے تحت پنجاب کے 7بڑے شہروں میں دنیا کے جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔اس سلسلے کی پہلی کڑی پنجاب کے شہر لاہور میں قائم آئی سی تھری سنٹر ہے۔
ان کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرزبنانے کا مقصدریاست کے پولیس، فائر بریگیڈ، ریسکیو سمیت وہ ادارہ جات جن کا تعلق عوام کے جان ومال کے تحفظ سے ہے کو ایک پلیٹ فارم پر لانا اورکسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں ریسپا نس ٹائم کو کم سے کم کر نا ہے تاکہ عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔پاکستان میں ہمیں یہ سب با تیں خواب کی مانند لگتی تھیں لیکن یہ خواب اب ایک حقیقت ہے کیونکہ حکومت کی دن رات کی محنت کی صورت میں لاہو ر انٹیگریٹڈکمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر وجود میں آچکا ہے۔اس کی مدد سے چیئرنگ کراس سانحہ کے ملزمان تک 24گھنٹے کے اندر پہنچنے میں مدد ملی جس کی پولیس کی تاریخ میں بہت کم مثال ملتی ہے۔ حکومت کی کوشش جاری ہے کہ پولیس اور عوام کے درمیان میں اعتماد میں اضافہ کیا جا سکے تاکہ ایک پر امن معاشرہ وجود میں آسکے۔
آخرمیں اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ حکومت کی ساتھ ساتھ عوام الناس کو بھی قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پر امن شہری ہونے کا ثبوت دینا ہو گا اور اپنے اداروں پر اعتماد کرنا ہوگا تاکہ ہم اس دہشتگردی جیسی لعنت سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں اور ایک پر امن معاشرہ وجود میں آسکے۔

Share